برچسب‌ها » انقلاب

هاشمی رفسنجانی در خبرگان

رئیس مجمع تشخیص مصلحت نظام گفت: هرکس تعهد اسلامی و ملی دارد، باید خودش را آماده کند و در انتخابات حضور داشته باشد.

به گزارش باشگاه خبرنگاران جوان ، بر خلاف گمانه زنی ها در رابطه با عدم حضور آیت الله هاشمی رفسنجانی در انتخابات سال جاری مجلس خبرگان رهبری امروز این رسانه به این گمانه زنی ها پایان داد و بر اساس مصاحبه رییس مجمع تشخیص مصلحت نظام با سایت انتخاب خبر حضور هاشمی در انتخابات مجلس خبرگان سال جاری تایید شد.

رییس مجمع تشخیص مصلحت نظام در پاسخ به سئوالی در مورد اهمیت دو انتخاباتی آتی (مجلس و خبرگان) گفت: این دو انتخابات بسیار مهم و جزو مهمترین انتخابات ما هستند. هرکس تعهد اسلامی و ملی دارد، باید خودش را آماده کند و در انتخابات حضور داشته باشد.

آیت الله هاشمی اضافه کرد: کسانی که خود را صالح می‌دانند، نامزد شوند و اگر در آن سطح نیستند، برای رأی دادن بیایند. اینجا بسیار مهم است و نتیجه‌اش هم به همه‌ی ایرانی‌ها بر می‌گردد. این‌گونه نیست که یک عده ببرند و یک عده ببازند. نتیجه‌ی مثبت و منفی‌اش به همه برمی‌گردد. لذا خوب است که همه کسانی که احساس ملی‌گرایی دارند یا اسلامی و یا انقلابی هستند و هر چه که هستند و یا هر سه هستند، بیایند و در انتخابات شرکت کنند و بی‌تفاوت نباشند.

وی در پاسخ به این سئوال که «آیا شما قرار است تحرکی داشته باشید؟» ، گفت: من در مجلس نمی‌توانم شرکت کنم، ولی بنا دارم در خبرگان شرکت کنم.

اخبار اقتصادی

مصاحبه با آیت الله خلخالی

در یک مصاحبه که با آیت الله خلخالی قبل از مرگش انجام شده است وی گفته بود
» تازه بود که حاکم شرع شده بودم و بنا داشتم تا با منافقين قاطعانه برخورد کنم. براي خيلي از همکارانم سوال بود که چگونه مي شود اين ها را سر جايشان نشاند. عصر از پيش امام بازگشته بودم و با همراهان و همکاران و محافظانم قرار بود شام را در منزلم بخوريم. داشتيم مي آمديم داخل کوچه منزل که از شيشه ماشين ديدم دوتا بچه پانزده ، شانزده ساله گويا مخفيانه چيزي با هم رد و بدل کردند. دستور دادم بگيرند و بگردندشان ببينم ماجرا چيه. خودم از کيف پسره اين روزنامه مجاهدين را در آوردم. يادم هست فاميلش شريعتي بود از خانواده هاي اسمي قم. همانجا پسره را با گلوله زدم و به همراهانم گفتم اينجوري بايد با اين جانوران برخورد کرد! »

حال این عمل آیت الله خلخالی که مشابه آن، در این حکومت بسیار اتفاق افتاده است را با آیات زیر مقایسه کنید.

سوره احزاب آیات 60 و 61

لَئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا. مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا.

اگر منافقان و کسانی که در دلهايشان مرضی است و آنها که در مدينه شايعه می پراکنند از کار خود باز نايستند ، تو را بر آنها مسلطمی گردانيم تااز آن پس جز اندکی با تو در شهر همسايه نباشند. اينان لعنت شدگانند هر جا يافته شوند بايد دستگير گردند و به سختی کشته شوند.

اینجاست که باید دانست آخوندها از اسلام سوء استفاده نمیکنند بلکه از آن استفاده میکنند، و به نام اسلام جنایت نمیکنند بلکه جنایاتشان مبتنی بر بینش و منش اسلامی است و دقيقا احكام اسلام رو مو به مو انجام ميدن.

امام

بھگت سنگھ کا نوجوان سیاسی کارکنوں کےلئے پیغام

آپ لوگ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس نعرے کا مطلب کیا ہے۔

ہماری تعریف کے مطابق انقلاب کا مطلب اسسماجی نظام کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ نظام قائم کرنا ہے۔اس حوالے سے ہمارا پہلا مقصد طاقت کا حصول ہے۔در حقیقت ریاست اور حکومتی مشینری ، حکمران طبقے کے ہتھیار ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔ہمیں اس ہتھیار کو چھین کراسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا ہے جو کہ مارکسی بنیادوں پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر ہے۔اور اسی مقصد کے تحت ہم حکومتی مشینری کے خلاف لڑ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں عوام کی نظریاتی تربیت بھی کرنی ہے جو کہ جدوجہد میں ان کے ساتھ شریک ہو کر بہتر طریقے سے کی جا سکتی ہے۔

کسی بھی انقلابی پارٹی کے لئے ایک ٹھوس پروگرام ناگزیر ہوتا ہے۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ انقلاب کا مطلب عملی جدوجہد ہے۔اس کا مطلب شعوری طور پر اور منظم طریقے سے کام کرتے ہوئے تبدیلی لانا ہے، نہ کہ غیر منظم اور اچانک تبدیلی یا پھر افراتفری۔ اور (انقلابی)پروگرام مرتب کرنے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا علم ہونا ناگزیر ہے:

۔حتمی مقصد
۔اس بات کا احاطہ کرنا کہ کام شروع کہاں سے کیا جائے، یعنی کہ معروضی حالات کا جائزہ
۔ لائحہ عمل اور طریقہ کار جب تک ان تین باتوں کا مکمل جائزہ نہ لیا جائے کو ئی پروگرام مرتب نہیں کیا جاسکتا۔ ہم ایک سوشلسٹ انقلاب چاہتے ہیں جو کہ سیاسی انقلاب کے بغیر ممکن نہیں۔سیاسی انقلاب کا مطلب انگریزوں سے ہندوستانیوں تک ریاست(اقتدار) کی منتقلی نہیں ، بلکہ ان ہندوستانیوں تک اقتدار کی منتقلی ہے جو حتمی منزل تک ہمارے ساتھ کھڑے رہیں، دوسرے الفاظ میں عوام کی حمایت کے ساتھ انقلابی پارٹی تک طاقت کی منتقلی۔اگلا درست قدم سوشلسٹ بنیادوں پر سماج کی تعمیر ہو گا۔ اگر آپ ایسے انقلاب کے متحمل نہیں ہو سکتے تو برائے مہربانی ’’انقلاب زندہ باد‘‘چلانا بند کریں۔انقلاب کا لفظ ہمارے لئے بہت مقدس ہے اور ہم اسے رسوا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔لیکن اگر آپ قومی انقلاب چاہتے ہیں اور آپ کی جدوجہد کا مقصد امریکی طرز پر جمہوریہ ہندوستان کی تعمیر ہے تو مجھے برائے مہربانی یہ بتا دیں کہ کن قوتوں پر انحصار کرتے ہوئے آپ یہ انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں؟ (انقلاب چاہے)قومی ہو یا سوشلسٹ یہ فریضہ صرف مزدور اور کسان ہی پورا کر سکتے ہیں۔اگر آپ (صرف قومی بنیادوں پر)کسانوں اور مزدوروں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ جان لیجیے کہ وہ جذباتی باتوں سے بیوقوف بننے والے نہیں۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ : جس انقلاب کے لئے آپ ان سے قربانی مانگ رہے ہیں وہ انہیں کیا دے سکتا ہے؟آپ انہیں اپنے’ مقصد‘کے لیے استعمال نہیں کر سکتےبلکہ آپ کو انہیں یقین دلانا پڑے گاکہ انقلاب ان کا ہے اور انہی کے فائدے کے لئے ہے۔پرولتاریہ کے لئے پرولتاری انقلاب۔

حتمی مقصد کو واضح کر لینے کے بعد ہی آپ ،اپنی قوتوں کو عملی کاروائی کے لئے منظم کر سکتے ہیں۔اب آپ کو لازمی طور پر دو مراحل سے گزرنا ہو گا، پہلا تیاری اور دوسرا عمل۔موجودہ تحریک کے ختم ہونے کے بعد آپ مخلص انقلابیوں میں بے یقینی اور مایوسی کی کیفیت دیکھیں گے۔ لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جذباتی پن کو ایک طرف پھینک دیں۔حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔ انقلاب ایک مشکل کام ہے۔یہ کسی (اکیلے) آدمی کے بس کی بات نہیں۔نہ ہی اس کے لئے کوئی مقررہ تاریخ دی جا سکتی ہے۔بلکہ انقلاب مخصوص معاشی و سماجی حالات میں برپا ہوتے ہیں۔منظم پارٹی کا اصل کام ایسے حالات کی جانب سے مہّیا کیے گیے مواقع کا فائدہ اٹھانا ہے۔انقلاب کے لئے عوام کو تیار کرنا مشکل کام ہے، اور یہ کام انقلابیوں سے قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔یہاں ایک بات میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کاروبار سے وابستہ ہیں یاپھر روز مرہ کاموں اور خاندان میں مصروف رہنے والے آدمی ہیں تو مہربانی کر کے آگ سے مت کھیلئے۔ایک لیڈر کے طور پر آپ پارٹی کے کسی کام کے نہیں ہیں۔ہمارے پاس پہلے سے ہی شام کو وقت گزاری کے لیے تقریر کرنے والے لیڈروں کی بہتات ہے،جو بیکار ہیں۔ ہمیں لینن کے الفاظ میں ’’پیشہ ور انقلابی‘‘ چاہییں، تمام تر وقت کام کرنے والے ایسے کارکن جن کی زندگی کا مقصد انقلاب کے علاوہ کچھ نہ ہو۔ایسے انقلابی کارکن جتنی زیادہ تعداد میں پارٹی کے اندر منظم ہوں گے کامیابی کے امکان اتنے ہی زیادہ ہیں۔

منظم طریقے سے آگے بڑھنے کے لئے ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جس کے اندر ایسے کارکن، جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ، نظریات سے لیس ہوں اور حالات کے مطابق درست فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔پارٹی کا ڈسپلن آہنی ہونا چاہیے اور ضروری نہیں کہ یہ پارٹی صرف زیر زمین ہی کام کرے،بلکہ اسکے متضاد حالات میں بھی کام کر سکے۔پارٹی کو جن کارکنوں کی ضرورت ہے وہ صرف نوجوانوں کی تحریکوں کے ذریعے بھرتی کیے جاسکتے ہیں۔لہٰذاہمیں نوجوانوں کی تحریک کو اپنے پروگرام کے آغاز کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی تحریک میں سٹڈی سرکل،کلاس لیکچرز منعقد کیے جائیں اور کتابچے، فارم،کتابیں اور رسالے چھاپے جائیں۔ سیاسی کارکنوں کی بھرتی اور تیاری کایہ بہترین طریقہ ہے۔ ان بنیادوں پر جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے پارٹی کو اپنا کام آگے بڑھانا چاہیے۔باقاعدہ میٹنگز اور کانفرنسوں کے ذریعے سے کارکنوں کی تمام تر موضوعات پر تربیت کی جانی چاہیے۔اگر آپ ان بنیادوں پر کام کا آغاز کرتے ہیں تو آپ کو صبر سے بھی کام لینا ہوگا۔اس کام کی تکمیل کے لئے کم از کم بیس سال درکار ہیں۔اس مقصد کے لیے جذباتیت یا خون خرابے کی بجائے مستقل مزاجی سے کی جانے والی جدوجہد ، پیش قدمی اور قربانی چاہیے۔سب سے پہلے انفرادیت اور ذاتی تسکین کے خوابوں سے چھٹکارہ پانا ہو گا۔

اس کے بعد کام کا آغاز کیا جائے۔ آپ کو انتہائی دھیمی رفتار سے آگے بڑھنا ہو گا جس کے لئے ہمت اور مضبوط عزم کی ضرورت ہے۔مشکلات اور مصیبتیں آپ کو مایوس نہ کریں۔نہ ہی ناکامی اور غداریوں سے دل برداشتہ ہوا جائے۔جتنی بھی مشقت کرنی پڑے ،آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہیے۔ مصائب اور کامیابیوں کے اس امتحان سے گزر کر ہی آپ کامیاب ہو ں گے، اور آپ کی ذاتی فتح ہی انقلاب کا اثاثہ ثابت ہو گی۔

(نوجوان سیاسی کارکنوں کے نام بھگت سنگھ کے خط سے اقتباس جو 2 فروری 1931 ء کو لکھا گیا)

 بشکریہ: طبقاتی جدوجہد

هسته‌ای‌ترین عاشورای تاریخ

امسال نزدیک بودن پایان مهلت تمدید چهار ماهه توافق موقت ژنو و حساسیت فرجام مذاکرات هسته‌ای در سیاست داخلی و بین‌الملل باعث شد تا پای امام حسین نیز به نوعی به مباحث هسته‌ای کشیده شود.

گذشت چهل روز از اعدام محسن امیراصلانی

مراسم چهلمین روز از درگذشت محسن امیر اصلانی که حکم اعدام وی روز دوم مهرماه به دلیل اتهاماتی چون «بدعت در دین و ادعای ارتباط با امام زمان، توهین به حضرت یونس و نیز ارتکاب فعل حرام» به اجرا درآمد، آخر هفته گذشته توسط خانواده و برخی از نزدیکانش برگزار شد.

همسر محسن امیراصلانی طی یک پست فیس‌بوکی در این باره نوشت: «پروانه زیبایم، محسنم، چهل روز از پرواز پر شکوهت گذشت… من ماندم وغم دلتنگیت، با داغی که تا ابد در دلم دارم، با یادت، با عشقت با خاطراتت و با یادگاریت که بوی تو را برایم می‌دهد… و با درس‌هایی که با پروازت بهم آموختی. استقامت صبر تسلیم محض بودن در برابر خدا».

محسن امیراصلانی که به دلیل کلاس‌های عمومی‌اش موسوم به طریقت باطنی، حرکت جوهری، رویاشناسی و امثال آن شاگردان متعددی داشت و خدمات مشاوره روانشناسی نیز ارائه می‌کرد، سال ۱۳۸۵ به همراه همسر و تنی چند از شاگردانش بازداشت شد.

در ابتدا حکم ۴سال و ۱۰ ماه زندان، شلاق و جریمه نقدی بابت اتهاماتی چون بدعت در دین، توهین به حضرت یونس و اعمال منافی عفت برای وی صادر شد و در دادگاه تجدید نظر این حکم به ۲ سال و ۱۰ ماه زندان باضافه جریمه نقدی و شلاق تقلیل یافت.

یک سال بعد از صدور حکم دادگاه تجدید نظر، تنی چند از شاگردان سابق محسن امیراصلانی مدعی شدند که وی به آن‌ها تجاوز جنسی کرده و از آقای امیراصلانی که در زندان بود، شکایت کردند.

پرونده این زندانی عقیدتی مجدداً با جمیه اتهامات در شعبه ۱۵ دادگاه انقلاب توسط قاضی صلواتی در سال ۱۳۸۶ بررسی شد و بر اساس گزارش هرانا، حکم اعدام صادره توسط این قاضی سه بار در دیوان عالی کشور نقض شد و سرانجام در کشاکش بین شعبه ۱۵ دادگاه انقلاب و شعبه ۳۱ دیوان عالی کشور از طریق اعمال ماده ۱۸ و اعمال نظر ریاست قوه قضاییه حکم اعدام نهایی شد.

محسن امیراصلانی زنجانی، ۳۷ ساله، متاهل و دارای یک فرزند ۲ ساله بود.

همسر محسن امیراصلانی در یادبود چهلمین روز اعدام وی نوشت: «من ماندم وغم دلتنگیت، با داغی که تا ابد در دلم دارم، با یادت، با عشقت با خاطراتت و با یادگاریت که بوی تو را برایم می‌دهد…»

«در ظلمی که به امیرانتظام شد سهیم بودیم»

مراسم بزرگداشت عباس امیرانتظام، نخستین و قدیمی‌ترین زندانی سیاسی پس از انقلاب ایران، با سخنرانی تلفنی وی، دیروز شنبه چهارم اکتبر از سوی بنیاد آزادی بیان و اندیشه در سالن آژکا در پاریس برگزار شد.